"نماز سے دُوری منافقت کی علامت " : رانیا میر



مسلمان ہونے کی وجہ سے ہم سب پر پانچ نمازیں فرض ہے، مگر ہمارا مسئلہ کیا ہے ؟ اول تو ہم بالکل نماز نہیں پڑتے اور ڈھیٹ بن کر زندگی گزار دیتے ہیں یا پھر دو پڑھی لی تو تین چھوڑ دی،  تین پڑھ لی تو دو چھوڑ دی، کبھی تو ساری پڑھ لی اور کبھی ایک بھی نہ پڑھی اکثر ہم فجر اور عشاء پڑھنے میں کنجوسی کرتے ہیں -
حدیث کے مطابق :
یہ مفافق انسان کی علامت ہے جو فجر اور عشاء نہیں پڑھتے، منافق کون ہوتا ہے؟
مشرک؟ یہودی؟ کافر؟
نہیں نہیں بلکہ منافق تو مسلمان ہوتا ہے جو نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لا کر بھی دل کے زنگ کو اترنے میں کامیاب نہیں ہو سکا - ایسا شخص ایمان نہیں لاتا بس اسلام قبول کرتا ہے -

اللہ نے بدکار، چور، شرابی، قتل کسی کو منافق نہیں کہا حالانکہ یہ جرم کبیرہ گناہوں میں سے ہیں -

حدیث کے مطابق منافق کی  نشانیاں ہیں -
 جو بات کریں تو جھوٹ بولے، امانت رکھے تو اس میں خیانت کریں، لڑائی کریں تو گالیاں دیں، وعدہ کریں تو وعدے خلاف کریں -

اللہ کے نزدیک منافق بندہ شرابی اور بدکار بندے سے بھی زیادہ بُرا ہے منافقت کا تعلق زبان سے ہے، اور نماز میں رکاوٹ کی سب سے بڑی وجہ بھی ہماری زبان ہی بنتی ہے،
زبان سے غبت کرتے ہوے اتنا وقت ضائع کر دیتے ہیں کے نماز نکل جاتی ہے اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ ہماری نماز چغلی، غیبت، بغض کی نظر ہوگی، ہمارے حیلے بہانے کسی کام نہیں آنے والے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت، جان مال کی حفاظت کی بھی ذمہ داری ہے یہ سب بھی امانت ہے لیکن جب  زبان ہماری دشمن بن جاتی ہے تو پھر معاملہ بگڑ جاتا ہے ایسے انسان کی دنیا بھی جاتی ہے اور آخرت بھی تباہ ہوتی ہے،

گناہ کا نشہ انسان کو دوغلا بنا دیتا ہے کہی کا نہیں چھوڑتا،  گناہوں کا نشہ سر چڑھ کر بولتا ہے اس سے دُور رہو گئے تب ہی نماز کے قریب آؤ گئے بعض لوگوں کو یہ کہتے بھی سُنا ہے کے فلاں تو چغلی بھی کرتا ہے غیبت بھی کرتا ہے ہر بُرائی کرتا ہے پر فجر اور عشاء پڑتا ہے تو کیا وہ منافق نہیں؟ تب دل کو سمجھایا کریں کے ہمیں تو ظاہر پر معاملہ کرنے کو کہا گیا ہے باقی دلوں کے حال سے رب زیادہ وقف ہے پتا نہیں یہ نمازیں قبول ہوگی بھی کے نہیں نماز پڑھنا ضروری چاہیے باقی یہ بندے اور رب کا معاملہ ہے کے اللہ کس کی نماز قبول کریں گئے اور کسی کی نماز رد کر دی جائے گی، اللہ نیت میں کھوٹ، ملاوٹ برداشت نہیں کرتے، رکاری کرنے ولا بندہ رب کو پسند نہیں ہے، ہمیں اپنا معاملہ رب کے ساتھ درست کرنا ہے باقی کوئی کیا کرتا ہے؟ کتنا مخلص ہے؟ اور اس کی نیت کا کیا حال ہے؟ یہ سب جج کرنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے، سب اپنے نامہ اعمال لے ذمہ دار خود ہوگئے جیسا کروں گئے ویسا ہی بدلہ پاؤ گئے -
"نماز سے دُوری منافقت کی علامت " : رانیا میر "نماز سے دُوری منافقت کی علامت " : رانیا میر Reviewed by Azam Kamboh on October 12, 2019 Rating: 5

No comments:

ads 728x90 B
Powered by Blogger.