صبح ہوتے، اچانک آنکھ کھلی تو اسے سامنے کھڑے پایا. شبو کو خوشی کے مارے کچھ دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا. یہ2016 کی بات ہے جب شبو رات گئے خدا کے حضور سجدہ ریز ہو کر دعاؤں میں اسے مانگا کرتا تھا. آج اسے اپنے سامنے موجود دیکھ کر شبو سے خوشی سے سمایا نہیں جا رہا تھا. رانی رو رو کر کہہ رہی تھی، "مجھے آپ سے محبت ہے، مجھے آپ سے محبت ہے". شبو اس کا جواب دیئے بغیر کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر اچانک بولا: "مجھے بھی آپ سے بے حد محبت ہے، کیا آپ مجھ سے نکاح کرو گی؟" رانی نے شبو کا سوال سنتے ہی فورًا ہاں میں سر ہلا دیا. شبو سوچ میں پڑھ گیا کہ اب اپنے ماں باپ کو کیسے راضی کروں. وہ تو میری یونیورسٹی کی دوست ہے، میرے ماں باپ تو اسے جانتے بھی نہیں تو وہ کیسے اس کے ساتھ شادی کرنے کے لیے مان جائیں گے؟ آخر تھوڑی دیر سوچنے کے بعد شبو نے ہمت کی اور ابو کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا. چند گھنٹوں کا سفر طے کرنے کے بعد یونیورسٹی سے گھر پنہچا تو شبو کے بڑے بھائی، چھوٹی بہن، ابو اور امی نے اس کا پُر تپاک استقبال کیا. تھوڑی دیر فیملی کے ساتھ وقت گزارا، پھر کچھ دیر آرام کیا اور دوستوں کو ملنے چلا گیا. شام کو جب ساری فیملی کھانے کے میز پر اکٹھی ہوئی تو شبو نے ابو سے کہا کہ میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتاہوں ، جس پر ابو نے پرجوش لہجے میں کہا: 'جی فرمائیے'. شبو نے کہا: "ابو! دراصل بات یہ ہے کہ میں اپنی یونیورسٹی کی فلاں دوست سے محبت کرتا ہوں اور ہم دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں" جسے سنتے ہی ابو کے پاؤں تلے سے جیسے زمین ہی نکل گئی. وہ غصے میں بولے: تمہارا دماغ خراب ہے، تم کیسی باتیں کر رہے ہو، وہ کون ہے، ہم تو اسے جانتے تک نہیں، تم بھلا کیسے اُس سے شادی کر سکتے ہو، میں ہرگز اجازت نہیں دوں گا. ہاں! اور میری ایک بات ذرا کان کھول کر سن لو: شادی تو دور کی بات، اگر دوبارہ اس لڑکی کا میرے سامنے نام بھی لیا تو جان سے مار ڈالوں گا". شبو ہمیشہ یہی کہتا رہا: " وہ لڑکی نہیں، میری محبت ہے". اسی بات پر ابو ، شبو سے ناراض ہو گئے. انہیں منانے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا. امی جان کو بھی شبو کی بات پر کافی غصہ آیا. کافی دنوں تک ماں باپ کو منانے کی کوشش کرتا رہا لیکن دونوں نے اُس لڑکی سے شادی سے انکار کر دیا. جس کے بعد شبو کو بے سود واپس یونیورسٹی لوٹنا پڑا. شبو نے یونیورسٹی پنہچتے ہی اپنی دوست رانی سے کہا کہ میرے ماں باپ مجھے اجازت نہیں دیتے. جس پر رانی نے کہا کہ اجازت تو میرے ماں باپ بھی نہیں دیتے. آؤ! ہم "کورٹ میرج " کر لیتے ہیں. شبو نے کہا: جی! صبح ہم آٹھ بجے کورٹ میرج کر لیں گے.
شبو نے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی بیس سال کی محبت کو ٹھکرا کر اپنی "اندھی محبت" کو پانے کے لیے ان سے تمام رشتے ناطے توڑ ڈالے. اگلے ہی دن ان دونوں نے کورٹ میرج کر لی. تین سال گزر گئے وہ دونوں کبھی اپنے ماں ماپ سے نہیں مل پائے. آج جب وہ کسی سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم نے اندھی محبت کو تو پا لیا لیکن اصلی محبت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھو دیا.
اندھی محبت : اعظم کمبوہ
Reviewed by Azam Kamboh
on
January 17, 2019
Rating:
Reviewed by Azam Kamboh
on
January 17, 2019
Rating:

No comments: