پھول جو دوگے تو تمہیں پھول ملیں گے
راہوں میں ہر قدم پہ سدا پھول کھلیں گے
تم ہم سے ملو گے ہم تم سے ملیں گے
نفرت کے زخم مرحمِ الفت سے سلیں گے
ہے عظمتِ انساں تو کردار کے باعث
اخلاق کے حامل یہاں ممتاز بنیں گے
آئیں گے دن کہ چاند کا پہنیں گے تاج وہ
تارے کسی غریب کے ماتھے پہ سجیں گے
ساجدؔ تیرا جو خدمتِ انساں رہا شعار
لازم ہے تیری قبر پہ پھر پھول چڑھیں گے
پھول جو دوگے : ساجد کمبوہ
Reviewed by Azam Kamboh
on
January 19, 2019
Rating:
Reviewed by Azam Kamboh
on
January 19, 2019
Rating:

No comments: