اس دنیا میں ہر شخص کامیابی کے پیچھے بھاگتا ہے، کوئی بھی قابل بننا نہیں چاہتا۔ ہر کسی کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ یہ کامیابی مجھے ملے۔ میں اس کام میں ضرور کامیابی حاصل کروں۔ ایک طالب علم سارا سال فلمیں دیکھتا ہے اور باقی سارا وقت کھیل کود میں گزار دیتا ہے۔ وہ ذرا برابر بھی محنت نہیں کرتا اور چاہتا ہے کہ امتحان میں کامیاب ہو جاؤں لیکن ناکام رہتا ہے کیونکہ اس نے خود میں یہ قابلیت ہی نہیں پیدا کی ہوتی کہ وہ کامیاب ہو سکے۔
ایک شخص ملازمت حاصل کرنے کے لیے جاتا ہے اور اس کا ریکارڈ متعلقہ ادارے کی شرائط کے مطابق نہیں ہے، اس کا تعلیمی ریکارڈ بھی اتنا اچھا نہیں ہے کہ اس کو یہ ملازمت دی جا سکے۔ پھر وہ اپنے دوستوں سے کہتا ہے کہ پڑھنے لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، ملازمت تو صرف ان افراد کو ہی ملتی ہے جن کے پاس سفارش ہے اور اپنے ملک کے نظام کو اس کا ذمے دار ٹھہراتا ہے لیکن سارا نظام ایسا نہیں ہوتا اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے نظام کو ذمے دار قرار دیتا ہے کیونکہ اس نے اس ملازمت کو حاصل کرنے کے لیے خود میں قابلیت ہی پیدا نہیں کی ہوتی۔
ایک شخص کسی سرکاری ادارے میں ایک اعلی عہدے پر ملازمت کر رہا ہے اور وہ ہر کام کے بدلے عوام سے لاکھوں روپے رشوت طلب کرتا ہے، ایک دن وہ رشوت لیتے پکڑا جاتا ہے اور اقرارِا جرم بھی کر لیتا ہے۔ جرم ثابت ہونے کے بعد اس کو اپنے عہدے پر تنزلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس وقت اس کی آنکھیں کھلتی ہیں اور شور مچاتا ہے کہ مجھے تنزلی کیوں دی گئی؟ مجھے ترقی کیوں نہیں دی گئی؟ مجھے ترقی دی جائے۔ کیونکہ اس نے خود کو اس قابل نہیں بنایا کہ اسے ترقی دی جائے۔
یہی حال ہم سب لوگوں کا ہے، ہم محنت کم کرتے ہیں اور توقعات زیادہ رکھتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی چیز حاصل کرنے کے لیے اتنے وسائل نہیں ہوتے جتنی بڑی ہم خواہشیں کرتے ہیں۔ ہم اس قابل نہیں ہوتے کہ کوئی بڑا عہدہ حاصل کر سکیں مگر ہم کوئی بھی ایسا حربہ استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے جس سے کسی دوسرے کا نقصان ہو۔
ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کسی بھی چیز کو حاصل کرنے سے پہلے خود کو اس قابل بنائیں کہ ہم اس چیز کو حاصل کرنے کے حق دار ہیں اور ہمیں کامیابی ضرور ملنی چاہیئے، اس لیے خود کو کامیاب نہیں قابل بناؤ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
کامیاب نہیں قابل بنو : اعظم کمبوہ
Reviewed by Azam Kamboh
on
January 17, 2019
Rating:
Reviewed by Azam Kamboh
on
January 17, 2019
Rating:

No comments: