زندانِ عشق الفاظ کے اظہار بھلا دیتا ہے چیخنا چلانا عشق کے آداب مٹا دیتا ہے تم نہ دینا مجھے اپنا قاصہِ اختیار الزام یقیں کے انبار اڑا دیتا ہے
No comments: