معصوم پھولوں کا قتل عام ہے میرے شہر میں
ظالم کہاں روتا ہے ،یہاں پر تو ظلم روتا ہے
چھائی کچھ ایسی سیاہ شام ہے میرے شہر میں
اسلام نے اوڑھائی تھی عزت کی ردا جس کو
وہی اب روز ہوتی نیلام ہے میرے شہر میں
خرد مشکل ہی پڑے تو ہم پڑتے ہیں نمازیں
رہ گیا مطلب کا اب اسلام ہے میرے شہر میں
درد: کنول آمین خرد
Reviewed by Azam Kamboh
on
February 17, 2019
Rating:
Reviewed by Azam Kamboh
on
February 17, 2019
Rating:

No comments: